Pakistan terms alleged Houthi attack on power plant in Medina a grave provocation.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان نے مدینہ منورہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر مبینہ حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین اشتعال انگیزی اور علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ حملہ 29 ستمبر کو ہوا اور اس میں شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جو مسجد نبویؐ کو بجلی فراہم کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں مقدس مساجد کی حرمت اور نمازیوں و زائرین کی سلامتی ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔ پاکستان نے ایسے اقدامات کو فوری اور غیرمشروط طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کیلئے پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور مقدس مقامات، عوام اور زائرین کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ 29 ستمبر کو صبح 5 بج کر 11 منٹ پر ڈرون نے طیبہ بجلی تقسیم مرکز کو نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق تحقیقات، آپریشن کے بعد کیے گئے جائزے اور ڈرون کے ملبے سے حاصل شواہد نے حوثی گروپ کے حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں ملوث ہونے کی تصدیق کی۔

سعودی اتحاد کے مطابق حملے میں ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم وسیع تر بجلی کے نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

حوثیوں نے سعودی الزام مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔ حوثی فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سابقہ الزام کے شواہد پیش کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔

ترکیہ، قطر، عرب لیگ اور الازہر سمیت متعدد مسلم ممالک اور اداروں نے بھی مدینہ واقعے کی مذمت کی ہے۔