اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب بیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، جس کے باعث متعدد کشتیاں سمندر میں جانے کے بجائے ساحل پر لنگر انداز کردی گئی ہیں اور سی فوڈ برآمدات میں بھی نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
65 سالہ ماہی گیر حامد کے پاس 5 کشتیاں ہیں، تاہم ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے باعث ان میں سے 2 نے کام چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے دونوں کشتیاں ساحل پر کھڑی کرکے عملے کو گھروں کو بھیج دیا۔
حامد کے مطابق گزشتہ سال ڈیزل 200 روپے فی لٹر تھا اور 250 روپے پر بھی کاروبار قابل برداشت تھا، مگر اب قیمت 412.12 روپے فی لٹر تک پہنچ چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک ماہ کے آپریشن کے لیے 15 سے 18 لاکھ روپے کا ڈیزل کافی ہوتا تھا، لیکن اب یہی خرچ 30 سے 35 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق اخراجات تقریباً دگنے ہوچکے ہیں۔
ماہی گیری کے بڑھتے اخراجات کا اثر سی فوڈ پروسیسرز پر بھی پڑ رہا ہے۔ ارسلا سی فوڈز کے پروسیسر سلجوق خان نیازی کے مطابق پہلے 300 سے 350 روپے میں خریدی جانے والی مقامی سمندری خوراک اب 450 سے 500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ظفر کندی نے بتایا کہ 20 سے 30 فیصد کشتیاں پہلے ہی بند ہوچکی ہیں، جبکہ جو کشتیاں ماہانہ 2 سے 3 چکر لگاتی تھیں، وہ اب صرف ایک چکر لگا رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈیزل کی قیمت کم نہ ہوئی تو سی فوڈ برآمدات میں 25 سے 30 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ مالی سال تقریباً 568 ملین ڈالر کی سی فوڈ برآمدات کی تھیں۔ رواں مالی سال کے لیے پاک فی نے 700 ملین ڈالر جبکہ حکومت نے 680 ملین ڈالر سے زائد کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی اور اگست میں مچھلی اور کرسٹیشینز کی برآمدات 14.3 فیصد کم ہوکر 59.6 ملین ڈالر رہ گئیں۔
حکومت نے چھوٹے ماہی گیروں کو ریلیف دینے کے لیے سندھ اور بلوچستان کو تعاون کی ہدایت کی ہے، جبکہ ایک کشتی کے لیے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک مالی معاونت دی جارہی ہے۔
