Defense chiefs of Pakistan, Saudi Arabia and Turkey meet in Riyadh, decide on practical cooperation

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس کے تحت کیے گئے دفاعی وعدوں کو فوری طور پر مؤثر اور عملی عسکری تعاون میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام نے ریاض میں اہم اجلاس کے دوران سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

جمعے کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اولو شریک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطوں اور تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے اقدامات پر گفتگو کی گئی۔ فریقین نے ان اقدامات کو اجتماعی دفاع اور خطے میں دفاعی باز مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔

اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ عسکری قیادت نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں سمیت شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور سعودی مسلح افواج کی نگرانی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دفاعی اقدامات کو سراہا۔

تینوں ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس نے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی بھی عکاسی کی۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس الائنس پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے تھے، جبکہ 31 اگست کو استنبول میں اس کی پہلی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔

تینوں ممالک نے اتحاد کے لیے مستقل سیکریٹریٹ ریاض میں قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ پاکستان کو پہلے تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل فراہم کرنا تھا۔ پاکستان نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا ہے۔