اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز کی خبر کے مطابق ملازمین کی ذاتی معلومات کے ساتھ ان کی حساس پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ہیکرز گروپ شائنی ہنٹرز نے ایف بی آئی کے موجودہ اور سابق ملازمین کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مبینہ طور پر حاصل کردہ تقریباً 5 ہزار سطروں پر مشتمل اسپریڈشیٹ میں ملازمین کے نام، پتے، فون نمبرز، تاریخ پیدائش، سوشل سکیورٹی نمبرز اور ہنگامی رابطوں کی معلومات شامل ہیں۔
اس ڈیٹا میں بعض اہلکاروں کی مخصوص فیلڈ دفاتر اور ایسے یونٹس سے وابستگی بھی درج ہے جو چینی جاسوسی، روسی انٹیلی جنس، انسدادِ جاسوسی، نگرانی اور دیگر حساس معاملات پر کام کرتے ہیں۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپریڈشیٹ مبینہ طور پر چوری کیے گئے 2 سے 3 ٹیرا بائٹ ڈیٹا کے مقابلے میں صرف ایک معمولی حصہ ہے۔
رائٹرز نے پوری اسپریڈشیٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی، تاہم 22 سے زائد افراد سے متعلق بعض معلومات کو دستیاب ریکارڈز اور سابقہ لیکس کے ذریعے الگ الگ جانچا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ ڈیٹا میں 14 اہلکار چین سے متعلق ذمہ داریوں، 9 روسی معاملات، جبکہ 3 ایران اور حزب اللہ سے متعلق انٹیلی جنس کرداروں سے منسلک دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈیٹا میں ان اہلکاروں کی معلومات بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو ٹیلی کمیونیکیشن انٹرسیپشن، خفیہ تکنیکی آپریشنز، الیکٹرانک نگرانی اور انسانی ذرائع سے انٹیلی جنس حاصل کرنے کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
سابق ایف بی آئی اہلکار ایرک او’نیل نے ایسے ڈیٹا کو غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے انتہائی قیمتی قرار دیا، جبکہ سابق فوجی تفتیش کار ٹریور ہلیگوس نے خاص طور پر خفیہ انسانی ذرائع سے متعلق معلومات کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔
ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اسے سائبر جرائم پیشہ گروپ کے ادارے کے ڈیٹا تک رسائی کے دعوے کا علم ہے اور ملازمین کی ذاتی معلومات متاثر ہونے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ادارے نے کہا کہ واقعے کی وجہ اور دعووں کی مکمل حقیقت ابھی زیرِ تفتیش ہے، جبکہ ہیکرز کے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
