Tensions remain over the Strait of Hormuz, Iran sets condition for talks to end US pressure

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا دروازہ کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بات چیت اسی صورت میں ممکن ہوگی جب واشنگٹن اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی ختم کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سفارت کاری کو دوبارہ راستے پر لانا ناممکن نہیں، تاہم امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ مؤثر نہیں ہوتا۔

انہوں نے واشنگٹن سے اعتماد بحال کرنے، احترام کے ساتھ بات کرنے، ایران کے حقوق تسلیم کرنے اور کیے گئے وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ بھی کیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اپریل میں ہونے والی جنگ بندی نے شدید لڑائی کا سلسلہ روکا تھا جبکہ جون میں دونوں فریقوں نے حتمی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے تھے۔

تاہم واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی شرائط توڑنے اور وعدے پورے نہ کرنے کے الزامات عائد کیے، جس کے باعث مفاہمتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

اسی دوران امریکا نے ایران سے متعلق مزید پابندیوں کا اعلان کردیا۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن مصر کے بینک مصر کے خلاف بھی کارروائی پر غور کررہا ہے۔ ممکنہ اقدام کے تحت متحدہ عرب امارات میں بینک کی شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کیں، جنہیں ایران کے بینک ملی سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔

ایران نے نئی پابندیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یکطرفہ امریکی پابندیوں پر عمل نہ کرے۔

دریں اثنا آبنائے ہرمز بدستور کشیدگی کا اہم مرکز ہے۔ ایرانی قانون ساز اسماعیل کوثری نے کہا کہ جب تک امریکا اپنی بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے تہران میں عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

چین نے بھی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تنازع ختم کرنے کا قابل عمل راستہ سفارت کاری ہے۔ بیجنگ نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت بھی دہرائی ہے۔