اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کرلیا ہے، تاہم معاہدے کی قانونی اور مالی ساخت سمیت کئی اہم تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتظام نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کیا گیا ہے اور اس پر امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق معاہدے کا مقصد وینزویلا کی تباہ حال تیل صنعت کو دوبارہ فعال کرنا اور امریکا کے لیے خام تیل کی نئی اور نسبتاً کم قیمت فراہمی یقینی بنانا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ مل کر اس پیش رفت کو ممکن بنایا۔
وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر رکھتا ہے، لیکن کئی برس کی کم سرمایہ کاری، بدانتظامی اور پابندیوں کے باعث اس کی پیداوار تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
روبیو نے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ’جیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا کو مستحکم اور کم قیمت تیل مل سکتا ہے، جس سے پٹرول کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ان کے مطابق معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے، ہزاروں اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ملک کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ معاہدے کے تحت 17 اسٹریٹجک آئل فیلڈز کو ترقی دی جائے گی۔ ان کے مطابق منصوبے سے وینزویلا کو ٹیکسوں کی مد میں 209 ارب ڈالر تک آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔
تاہم ڈیل کے حوالے سے بنیادی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا اکثریتی کنٹرول کس طریقے سے استعمال کرے گا، کن آئل فیلڈز کو شامل کیا گیا ہے یا کون سی کمپنیاں اس منصوبے کا حصہ ہوں گی۔
