New series of rains from August 29, risk of urban flooding in Islamabad and Rawalpindi

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی علاقوں میں 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہورہی ہیں جبکہ 31 اگست سے مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی بالائی علاقوں کا رخ کرسکتا ہے جو 5 ستمبر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر کے نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 29 اگست کی رات سے 6 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔

اسلام آباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ بالائی پنجاب کے راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، وزیرآباد اور حافظ آباد میں 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں۔

قصور، اوکاڑہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، نورپور تھل، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال اور پاکپتن میں یکم سے 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے پشاور، دیر، چترال، سوات، کوہستان، ملاکنڈ، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، ہنگو، کرم، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔

کراک، ٹانک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور وزیرستان میں یکم سے 4 ستمبر تک بارش ہوسکتی ہے۔

گلگت بلتستان کے دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، غانچے اور شگر میں 30 اگست سے 6 ستمبر تک بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 31 اگست سے 5 ستمبر کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے۔

کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی ندی نالوں میں شدید بارش سے فلیش فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، اس لیے سیاحوں اور مسافروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسانوں کو بھی موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں سے متعلق سرگرمیاں ترتیب دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔