Pakistan's diplomatic role in the Gulf crisis intensified, offering cooperation to protect shipping

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے عالمی تجارتی جہاز رانی اور سپلائی چین کے تحفظ کے لیے سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ بحری تعاون پر آمادگی ظاہر کردی ہے، جبکہ دوسری جانب تہران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی تیز کردیئے گئے ہیں۔ اسلام آباد کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان علاقائی بحران میں سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا کہ پاکستان بحری اتحاد کے اعلامیے کا دستخط کنندہ ہے اور اس کی پاسداری کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان عالمی سپلائی چین، بحری ٹریفک اور سمندری سلامتی کے تحفظ کے لیے سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثی فورسز کے ایک تجارتی جہاز پر حملے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، جبکہ 11 پاکستانی اور انڈونیشیائی ملاحوں کو بچا لیا گیا۔ پاکستان نے حملے کو بین الاقوامی قانون اور بحری نقل و حرکت کی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کے دورے کے دوران ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات کی اور وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم پیغام پہنچایا۔ دفتر خارجہ نے پیغام کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور اسے علاقائی امن کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

محسن رضائی نے پاکستان، اس کی مسلح افواج اور عوام کو اسلامی دنیا کے عظیم اثاثے قرار دیتے ہوئے ایران، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا کے درمیان قریبی تعاون اور اسلامی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان ایک دوسرے کو اسٹریٹجک پچھلا محاذ سمجھتے رہے ہیں۔

طاہر اندرابی کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 10 اگست کو ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کی، جس میں دفاعی معاہدے سمیت علاقائی صورتحال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی عمل کے لیے طے شدہ 60 روزہ مدت میں توسیع یا مذاکرات کی بحالی کی امید رکھتا ہے، جس کی مدت 17 اگست کو مکمل ہونے والی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی وسیع تر امن عمل میں اہم رکاوٹ ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ قطر اور پاکستان بھی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ہرمز پر کسی معاہدے سے وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد نے ایران کے وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے، تاہم ابھی ان دوروں کی تاریخیں طے نہیں ہوئیں۔