اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی نے فرانس سمیت مغربی ممالک کو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے خلاف جارحیت کی حمایت نے ان کے اخلاقی دعووں کو ختم کردیا ہے۔
اراغچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فرانس سمیت بعض مغربی ممالک پر کھلے عام اور شرمناک منافقت کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران کے خلاف جارحیت کی حمایت نے ان ممالک کی اخلاقی برتری کے دعوے کو نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے جاری کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی بحالی اور اس کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے مدت مقرر کرنے کے معاملے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
جون کے معاہدے میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی بات کی گئی تھی، تاہم یہ انتظام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 جولائی کو معاہدہ ختم ہونے کا اعلان کیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے ایک ہفتے بعد اسے معطل قرار دیا۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران نے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شرط پوری نہیں کی۔ تہران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے بھی اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جن میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنا شامل ہیں۔
ایرانی ذریعے نے عبوری معاہدے کی مدت میں توسیع سے متعلق اطلاعات کو بھی مسترد کردیا۔ اس کے مطابق ایران کے نزدیک توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی 48 گھنٹے کے اندر کردی تھی۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکا کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے قائم کردہ خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک تہران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔
