Pakistan is mobilizing for peace in the Middle East, trying to bring the US and Iran back to the negotiating table with the support of China.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین کی حمایت سے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث اس عمل میں اب بھی کئی اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ابتدائی مشاورت ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران ہوئی، جو گزشتہ دس روز کے اندر ان کا دوسرا دورہ تھا۔ اس دوران انہوں نے پاکستانی قیادت، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چینی حکام کے ساتھ اس معاملے پر تفصیلی مشاورت کی۔

چینی وزارت خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان سمیت تمام تعمیری ثالثی اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جلد امن و استحکام کی بحالی کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

جون 2026 میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت  طے پائی تھی، جس کے تحت مستقل معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت مقرر کی گئی تھی، لیکن دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ادھر بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق کسی بھی نئے مذاکرات کے آغاز کے لیے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا خاتمہ بنیادی شرط ہوگا، اور یہی مؤقف اسلام آباد نے ایرانی حکام کے سامنے بھی رکھا ہے۔