اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان، چین، یورپی یونین اور دیگر اہم تجارتی شراکت داروں سمیت 60 ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔ یہ ڈیوٹیاں 10 سے 12.5 فیصد تک ہوں گی اور ان کا اطلاق جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے مؤقف کے تحت کیا گیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے، جبکہ کئی تجارتی شراکت دار اس حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق نئے ٹیرف کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ عالمی تجارتی نظام میں مساوی مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی حکومت نے یہ محصولات ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کیے ہیں، جس کے ذریعے سپریم کورٹ کی جانب سے رواں برس فروری میں کالعدم قرار دیے گئے سابقہ "ریسی پروکل ٹیرف” کے بعد نئی قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ نئی ڈیوٹیاں امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر لاگو ہوں گی۔
پاکستان، بھارت، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا، اردن، ارجنٹائن اور دیگر متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، جبکہ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ اور تائیوان کے لیے مجموعی مؤثر شرح 10 یا 12.5 فیصد رکھی گئی ہے۔ چین، ویتنام سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
تاہم امریکی حکومت نے خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، اہم معدنیات، اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں، ہوائی جہازوں کے پرزہ جات اور یو ایس ایم سی اے معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات کو ان ٹیرف سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جن ممالک کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدوں کے تحت مخصوص ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان کے لیے نئی ڈیوٹیاں اس حد سے تجاوز نہیں کریں گی۔
امریکی فیصلے پر کئی ممالک نے اعتراضات بھی اٹھائے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی ممالک میں مزدوروں کے حقوق اور لیبر قوانین مضبوط ہیں، اس لیے ان پر جبری مشقت کا مؤقف قابل قبول نہیں۔ آسٹریلیا، برازیل اور ناروے نے بھی امریکی اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، جبکہ کینیڈا نے معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
