اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن سے متعلق ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور اختلافات کا حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کریں۔
سلامتی کونسل کا اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یمن میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ یمنی حکومت نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کارروائی کی، جبکہ اس کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔ حالیہ پیش رفت کو 2022 کی جنگ بندی کے بعد یمن میں پیدا ہونے والی سب سے بڑی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کا بھی مکمل احترام کرتا ہے اور تمام اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونے چاہییں۔
پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مزید انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ یمن میں پائیدار امن صرف ایک ایسے جامع سیاسی عمل سے ممکن ہے جو یمنیوں کی قیادت میں اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آگے بڑھایا جائے تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کے جائز خدشات اور مطالبات کو حل کیا جا سکے۔
پاکستان نے رواں برس مئی میں یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان 1,600 سے زائد قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات مستقبل میں مستقل جنگ بندی اور سیاسی مفاہمت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اسلام آباد نے اس موقع پر حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور سفارتی عملے کی مبینہ حراست اور اقوام متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر قبضے کی بھی مذمت کی اور تمام زیر حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ یمن میں جاری انسانی بحران کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واحد مؤثر حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، سیاسی مذاکرات اور علاقائی تعاون میں پوشیدہ ہے، کیونکہ مسلسل تصادم پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
