Britain's big decision announcement of changing the law to deport grooming gang leader Shabbir Ahmed

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان  نیوزکی خبر کے مطابق برطانوی حکومت نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزم شبیر احمد کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے امیگریشن قانون میں ترمیم کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمان کو بتایا کہ حکومت امیگریشن اینڈ اسائلم بل میں ترمیم کے ذریعے امیگریشن ایکٹ 1971 کی شق 7 میں تبدیلی لائے گی تاکہ سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ سے بے دخل کیا جا سکے۔

شبیر احمد کو 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد جنسی جرائم، جن میں ریپ بھی شامل تھا، کے مقدمات میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ رواں ماہ قبل از وقت رہائی کے پروگرام کے تحت جیل سے رہا ہوا، جس کے بعد اس کی ملک بدری کا معاملہ دوبارہ زیر بحث آ گیا۔

حکومت کے مطابق شبیر احمد کی برطانوی شہریت سزا کے بعد ختم کر دی گئی تھی، تاہم اسے ملک بدر نہیں کیا جا سکا کیونکہ 1971 کا امیگریشن قانون ان دولتِ مشترکہ کے شہریوں کو خصوصی تحفظ دیتا ہے جو 1973 سے پہلے برطانیہ آئے تھے۔ مجوزہ ترمیم اسی قانونی رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

شبانہ محمود نے کہا کہ یہ قانون طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم افراد کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اسے شبیر احمد جیسے سنگین مجرموں کی بے دخلی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق نئی ترمیم وزارت داخلہ کو ایسے مقدمات میں خصوصی اختیار فراہم کرے گی۔

تاہم وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ قانون میں تبدیلی کے باوجود شبیر احمد کی ملک بدری خودکار طور پر ممکن نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے لیے پاکستان کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام قانونی اور سفارتی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق شبیر احمد خود دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اپنی پاکستانی شہریت ترک کر چکا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ بی بی سی کے مطابق مجوزہ قانون کی منظوری میں کئی ماہ، حتیٰ کہ ایک سال تک بھی لگ سکتا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق شبیر احمد ان نو افراد میں شامل تھا جنہیں روچڈیل اور اولڈہم میں 13 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ رہائی کے بعد اسے 24 گھنٹے نگرانی والے مرکز میں رکھا گیا ہے اور اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جی پی ایس الیکٹرانک ٹیگ بھی لگا دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔

برطانوی حکام کے مطابق اس نوعیت کے گرومنگ گینگ کیسز میں اب تک 100 سے زائد افراد سزا پا چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم کیر اسٹارمر پہلے ہی اس معاملے پر قومی سطح کی تحقیقات کا اعلان کر چکے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکی شہری مستقبل میں قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر برطانیہ میں قیام جاری نہ رکھ سکیں۔