A future secured by artificial intelligence Which professions can guarantee future growth

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی گارڈین میں شائع شدہ مضمون میں مصنفہ سارہ مارش لکھتی ہیں کہ روزگار کی دنیا میں قدم رکھنے والے نوجوان ہمیشہ اس سوال سے دوچار رہتے ہیں کہ کون سا شعبہ مستقبل میں زیادہ محفوظ اور پائیدار ثابت ہوگا۔ لیکن مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کون سا شعبہ بہتر ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کون سی ملازمتیں ایسی ہیں جنہیں اے آئی مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکے گی۔

ان کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کام کرنے کے طریقہ کار کو ضرور بدل دے گی، لیکن ایسے متعدد پیشے موجود ہیں جہاں انسانی فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت، جذباتی فہم اور براہِ راست انسانی رابطہ بدستور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

طبی شعبے میں ماہرین کے مطابق نسخوں کی جانچ، مریضوں کے ریکارڈ، کال سینٹرز اور دفتری نوعیت کے کئی کام مستقبل میں خودکار ہو سکتے ہیں، تاہم ڈاکٹرز، فارماسسٹ، نرسز اور دیگر طبی ماہرین کی جگہ لینا آسان نہیں ہوگا کیونکہ علاج اور مریض کی جان بچانے جیسے فیصلے اب بھی انسانی تجربے، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ بصیرت کے متقاضی ہیں۔ بعض شعبے، جیسے پلاسٹک سرجری، اپنی انفرادی نوعیت کے باعث مزید محفوظ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ریڈیالوجی میں اے آئی کا کردار تیزی سے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مستقبل کے ڈاکٹر مصنوعی ذہانت کو بطور معاون استعمال کرنا سیکھیں، مگر اس کی حدود سے بھی پوری طرح آگاہ رہیں۔

وہ لکھتی ہیں کہ تعلیم اور بچوں کی نگہداشت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کردار صرف معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی رہنمائی، اعتماد سازی اور شخصیت سازی بھی ہے، جسے مصنوعی ذہانت مکمل طور پر انجام نہیں دے سکتی۔ اسی طرح بچوں کی دیکھ بھال، نرسری، چائلڈ مائنڈنگ اور تدریسی رہنمائی جیسے شعبوں میں انسانی موجودگی آئندہ بھی ناگزیر رہے گی کیونکہ والدین اپنے بچوں کی تربیت اور حفاظت کسی مشین کے بجائے ایک ذمہ دار انسان کے سپرد کرنا پسند کرتے ہیں۔

ان کے مطابق قانونی شعبے میں ابتدائی سطح کے وکلا اور پیرا لیگل اسٹاف کے معمول کے کام، جیسے دستاویزات کا جائزہ، ابتدائی ڈرافٹنگ اور معلومات اکٹھی کرنا، مستقبل میں بڑی حد تک اے آئی کے ذریعے انجام دیے جا سکیں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق قانونی فیصلے، عدالت میں مؤثر دلائل، مؤکل سے رابطہ اور قانونی حکمت عملی اب بھی انسانی صلاحیتوں پر منحصر رہیں گے۔ ان کے نزدیک مستقبل کے وکلا کے لیے مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال ایک اضافی مہارت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن جائے گا۔

سارہ مارش لکھتی ہیں کہ ہوٹل اور مہمان نوازی کی صنعت میں بھی مصنوعی ذہانت بکنگ، ای میلز اور دیگر انتظامی امور سنبھال سکتی ہے، لیکن مہمانوں کا استقبال، ان سے خوش اخلاقی سے پیش آنا اور یادگار تجربہ فراہم کرنا وہ خصوصیات ہیں جنہیں مشین مکمل طور پر نقل نہیں کر سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین ہوٹل ہمیشہ انسانی رویے، خدمت اور مہمان نوازی کی وجہ سے پہچانے جائیں گے، جبکہ اے آئی صرف معاون کردار ادا کرے گی۔ اسی طرح تخلیقی صلاحیت رکھنے والے شیف بھی نسبتاً محفوظ تصور کیے جا رہے ہیں، اگرچہ معمول کے باورچی خانے کے کام مستقبل میں خودکار ہو سکتے ہیں۔

تعمیراتی شعبے میں اینٹ چنائی، بڑھئی کا کام، پلستر، الیکٹریکل اور دیگر عملی ہنر رکھنے والے افراد کے لیے مستقبل میں بھی وسیع مواقع موجود رہیں گے۔ اگرچہ منصوبہ بندی، تخمینے اور دفتری کاموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ سکتا ہے، لیکن عملی مہارتوں کی جگہ لینا فی الحال آسان نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہنر مند کاریگروں کی طلب آنے والے برسوں میں مزید بڑھے گی۔

بینکاری اور مالیاتی شعبے میں کال سینٹر، کسٹمر سروس، برانچ آپریشنز اور دیگر دہرائے جانے والے کاموں پر اے آئی کا اثر سب سے زیادہ متوقع ہے، جبکہ ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر انجینئرنگ، رسک مینجمنٹ، آڈٹ، کمپلائنس اور پیچیدہ مالیاتی تجزیے جیسے شعبوں میں ماہر افراد کی ضرورت برقرار رہے گی۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں وہی افراد زیادہ کامیاب ہوں گے جو انسانی تجزیاتی صلاحیت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ سکیں گے۔

مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت بہت سے معمول کے کام ضرور سنبھال لے گی، لیکن ایسے شعبے جن میں انسانی فیصلے، تخلیقی سوچ، ہمدردی، قیادت، اعتماد سازی اور براہِ راست انسانی رابطہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، وہ مستقبل میں بھی مضبوط رہیں گے۔ نوجوانوں کے لیے سب سے اہم مشورہ یہی ہے کہ وہ صرف اپنی ڈگری پر انحصار نہ کریں بلکہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنا بھی سیکھیں، کیونکہ آنے والے دور میں کامیابی اُن افراد کے حصے میں آئے گی جو ٹیکنالوجی کو اپنا معاون بنا کر اپنی انسانی صلاحیتوں کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کریں گے۔