Concerned about threats to the two-state solution in the Security Council, Pakistan calls for an immediate halt to Israeli settlements

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کے مسلسل پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال دو ریاستی حل کے امکانات کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رمیز الاکبروف نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں سیکریٹری جنرل کی قرارداد 2334 سے متعلق تازہ رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں ایک مرتبہ پھر واضح کیا گیا کہ 1967 کے بعد مقبوضہ علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، میں قائم اسرائیلی آبادکاریاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیش رفتیں محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ عرصے میں 4 ہزار 750 نئے رہائشی یونٹس کی منظوری اور 34 نئی اسرائیلی بستیوں کی منظوری اس منظم توسیعی منصوبے کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے نئے آن لائن لینڈ رجسٹریشن نظام پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کو مزید آسان بنایا جا رہا ہے، جبکہ ای-1 منصوبہ مغربی کنارے کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنگ بندی اور امن اقدامات کے باوجود انسانی بحران بدستور سنگین ہے، جہاں 90 فیصد سے زائد آبادی خوراک کی شدید قلت، پانی کی کمی اور بیماریوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل فرانس، برطانیہ، یونان، لٹویا اور ڈنمارک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے آبادکاری کا سلسلہ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ سرگرمیاں امن عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اسرائیلی آبادکاری کی مسلسل توسیع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ای-1  منصوبے پر عملدرآمد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گا اور دو ریاستی حل کے لیے وجودی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔