As the transition of power in Britain approaches, Andy Burnham presents a new political strategy

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق برطانیہ کے متوقع نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ملک میں روایتی سیاست کے خاتمے اور اختیارات کو مرکزی حکومت سے نکال کر مقامی و علاقائی حکومتوں تک منتقل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت آئندہ دس برسوں میں برطانیہ کو ایک نئے سیاسی اور معاشی ماڈل کی جانب لے جائے گی۔

مانچسٹر کے پیپلز ہسٹری میوزیم میں خطاب کرتے ہوئے اینڈی برنہم نے کہا کہ اگر وہ توقعات کے مطابق 20 جولائی کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہیں تو برطانیہ گزشتہ ایک دہائی میں اپنا ساتواں وزیراعظم حاصل کرے گا، تاہم ان کی حکومت صرف چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات لانے پر توجہ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح اختیارات کی تاریخ کی سب سے بڑی منتقلی ہوگی، جس کے تحت مقامی حکومتوں کو پانی، بنیادی سہولیات اور دیگر عوامی خدمات کے انتظام میں زیادہ خودمختاری دی جائے گی تاکہ فیصلے عوام کے قریب رہ کر کیے جا سکیں۔

اینڈی برنہم نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت ملک بھر میں سماجی رہائش  کے منصوبوں کو وسعت دے گی، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے کاسٹ آف لیونگ بحران سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی، جبکہ موجودہ حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط اور فِسکل قواعد کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ترقیاتی ماڈل گریٹر مانچسٹر میں بطور میئر حاصل ہونے والے تجربات پر مبنی ہوگا، جہاں کاروباری طبقے، مقامی نمائندوں اور کمیونٹی تنظیموں کو ساتھ لے کر عوامی مسائل حل کیے گئے۔

تقریب کے دوران اینڈی برنہم نے موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حسبِ معمول سیاست نے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے بجائے مایوسی پیدا کی ہے، اس لیے اب روایتی طرزِ حکمرانی کو تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ویسٹ منسٹر کی سیاست میں تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ دیں گے اور اقتدار کو مرکز سے نکال کر ان علاقوں اور لوگوں تک منتقل کریں گے جو اسے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔

اینڈی برنہم کے مطابق برطانیہ کو موجودہ حالات سے نکالنے کے لیے ایک نئے سیاسی راستے کی ضرورت ہے، جس میں علاقائی خودمختاری، معاشی ترقی، عوامی شراکت داری اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا مرکزی حیثیت رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی حکمت عملی ملک میں پائیدار ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کی بنیاد بن سکتی ہے۔