اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ملاقات انتہائی اہم بھی ثابت ہو سکتی ہے اور غیر اہم بھی، تاہم اس کے نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا عسکری محاذ پر اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہے اور ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو مذاکراتی ٹیم کی قیادت سونپی ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا قطر جانے والا وفد صرف تکنیکی نوعیت کا ہے اور اس کا امریکی حکام سے کسی بھی ملاقات سے تعلق نہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آئندہ دنوں میں امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکرات طے نہیں۔
یہ متضاد بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 17 جون کو طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے پر عملدرآمد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کی تکنیکی ٹیمیں بدھ کو قطری اور پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کر سکتی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے انتظام، کشیدگی میں کمی اور مستقبل کے سفارتی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام میں عمان کے ساتھ مشترکہ کردار کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کی سلامتی اور انتظام متعلقہ ساحلی ممالک کی ذمہ داری ہے، جبکہ امریکا اس اہم تجارتی راستے پر آزادانہ جہاز رانی پر زور دے رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے امریکی ارکان کانگریس کو ایران کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ سینیٹ میں ریپبلکن رہنما اسٹیو ڈینز نے اسے مثبت قرار دیا، جبکہ ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے بریفنگ کو غیر تسلی بخش اور تفصیلات سے خالی قرار دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر جلد ایران کو واپس مل جائیں گے، جبکہ انہوں نے عبوری معاہدے کو ایرانی عوام کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
