Iran angered by Israeli actions in Lebanon, requests Pakistan's help to reduce tensions
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے پاکستان سے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے مثبت سفارتی کردار کو سراہا اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی۔
اسحاق ڈار نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا برقرار رہنا خطے کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاجاً امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں فوجی کشیدگی ختم کیے بغیر کسی وسیع تر معاہدے کی پیش رفت ممکن نہیں۔
ادھر امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے جواباً ایک امریکی استعمال شدہ فضائی اڈے پر حملے کا اعلان کیا۔ کویت نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان اور غزہ میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خطے میں نئے محاذ کھل سکتے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے جاری رہنے کی صورت میں مزاحمتی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔
اقوام متحدہ نے لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ صورتحال پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔




