دبئی: ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والی اختتامی تقریب اس وقت کشیدہ ہو گئی جب بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے اس رویے کو "پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف  قرار دیا انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کا یہ عمل کسی بھی کھیل میں فوری معطلی کے زمرے میں آتا ہے اگر یہ کسی اور کھیل میں ہوتا تو فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہوتا۔

A screengrab of Rashid Latif X post
A screengrab of Rashid Latif X post

معروف کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے بھارتی ٹیم کے رویے کو تکبر اور بدتہذیبی کی علامت قرار دیا۔"ٹرافیاں کسی کو چیمپیئن نہیں بناتیں، گریس اور وقار بناتے ہیں بھارت نے ٹرافی جیتی، لیکن اصل میں ہارا۔

A Screengrab of Nauman Niaz X post
A Screengrab of Nauman Niaz X post

انسانی حقوق کی معروف کارکن ماروی سرمد نے اس اقدام کو نئی کم  قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی تذلیل کرنے کے بجائے خود کو دنیا کے سامنے ایک مذموم مذاق بنا لیا ہے یہ کھیل کی روح کو تباہ کرنے کی ایک نئی مثال ہے۔

A screengrab of Marvi Sirmed X post
A screengrab of Marvi Sirmed X post

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے  ایکس پر لکھا کہ بھارت نے ثابت کیا کہ وہ جیت کر بھی چھوٹے ذہن کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کا غیر اسپورٹس مین رویہ افسوسناک ہے

A screengrab of Shireen Mazari X post
A screengrab of Shireen Mazari X post

سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے اچھی کرکٹ کھیلی، مگر رویے سے یہ واضح کر دیا کہ وہ کھیل کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں ان کے بورڈ پر بھی شرم آتی ہے

A Screengrab of Fahd Husain X post
A Screengrab of Fahd Husain X post

ذرائع کے مطابق بھارتی  ٹیم کو یہ ہدایت بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا  کی جانب سے ملی تھی محسن نقوی نے بھارتی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے خود ٹرافی دینے پر اصرار کیا، جس پر بھارتی ٹیم نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنا، جہاں اسے کھیل کی روح اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔