اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ 15 نکاتی منصوبے کی مخالفت کرکے ایک مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں، جہاں انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں میں توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔
نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس کے دوران منصوبے کو مسترد کیا تھا۔ اس منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ غزہ کے بڑے حصے سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجویز دی گئی ہے۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اس تجویز کے سخت مخالف ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیے بغیر اسرائیلی فوج کو غزہ سے واپس نہیں بلایا جانا چاہیے۔
اسرائیلی سیاسی امور کے ماہر یوسی میکلبرگ کے مطابق نیتن یاہو 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل اپنے سخت گیر حامیوں کا اعتماد برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم یہ تاثر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حماس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے وہی سب سے مضبوط امیدوار ہیں، تاہم ٹرمپ سے کھلا اختلاف بھی ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ منصوبے کو عوامی طور پر مسترد کرنے کے باوجود اسرائیل اس کے ایک اہم حصے پر عملی طور پر عمل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ غزہ حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے 3 اگست سے رک گئے ہیں، اگرچہ علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
سابق اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار ایہود ایلام کے مطابق اسرائیل حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مقصد حاصل نہیں کرسکا، اسی لیے اب تنظیم کو غیر مسلح کرنا اس کی ترجیح ہے۔ تاہم ان کے مطابق حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا بھی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہوگا۔
دوسری جانب حماس نے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو غیث العمری کے مطابق حماس کا مؤقف اسے ایک معقول فریق کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
