Tensions between the US and Iran have escalated, with Israel informed of a new military strategy

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کو آئندہ حکمت عملی سے آگاہ کر دیا ہے، تاہم واشنگٹن نے موجودہ مرحلے میں اسرائیل کو براہِ راست فوجی کارروائی سے دور رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی حکام کے درمیان ہونے والی مشاورت میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایران اسرائیل پر حملے کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اسی تناظر میں امریکا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کو اضافی فوجی سازوسامان اور فضائی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ متعدد فضائی ایندھن بردار طیارے بھی اسرائیل منتقل کیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل نویں روز بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکی فوج کے مطابق نئی فضائی کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تبریز، چابہار، کنارک، بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ جب تک ایران عالمی تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا، امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم سفارتی حل کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے شام کے علاقے التنف میں امریکی فوجی ہیڈکوارٹر، اردن کے عقبہ ایئرپورٹ اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد ناکارہ ہو گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت دو فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

امریکی فوج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 17 امریکی اہلکار ہلاک جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔