Resolution passed to restore Kashmir's statehood; Modi's party opposed it.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) کورٹ ہاوٗس نیوز سروس کی خبر کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی علاقائی اسمبلی نے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے حق میں غیر پابند قرارداد منظور کرلی، جس پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اعتراض کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور قرارداد کو غیر آئینی اور ملک دشمن قرار دیا۔

یہ پیش رفت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ہمالیائی خطے کی حکمرانی سے متعلق جاری بحث کے دوران سامنے آئی ہے۔ مودی حکومت نے 2019 میں کشمیر کی محدود خودمختاری ختم کردی تھی۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے ریاستی حیثیت کو کشمیر کا حق قرار دیا۔

قرارداد میں نئی دہلی کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور ہنگامی بنیادوں پر بحال کی جائے۔

نئی دہلی اس سے قبل ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ کرچکا ہے، تاہم اس کے لیے مناسب وقت کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے۔

قرارداد میں 2000 اور 2024 میں منظور کی گئی خودمختاری سے متعلق قراردادوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم تینوں قراردادیں آئینی طور پر پابند نہیں ہیں۔

2024 میں کشمیر میں نئی دہلی کے براہ راست انتظام میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ حکومت منتخب ہوئی۔ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اس حکومت کی قیادت کر رہی ہے، تاہم اس کے اختیارات محدود ہیں۔

نئی دہلی کی جانب سے مقرر کردہ منتظم اب بھی خطے میں وسیع اختیارات رکھتا ہے۔

کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف مسلح شورش 1989 میں شروع ہوئی تھی۔ باغی گروہوں کا مطالبہ آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق تھا۔