Tensions between Iran, Saudi Arabia and the region; Sajjad Azhar raises serious questions

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سجاد اظہر  سوشل میڈیا پر مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب میں واقع فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو ان کے بقول نہ صرف خطے میں جاری جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایک انتہائی حساس صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔

اپنی رائے میں سجاد اظہر نے کہا کہ پاکستان متعدد مواقع پر واضح کر چکا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون موجود ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پہلے ہی امریکا کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریز کر چکا تھا، تاہم یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے سعودی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ موجودہ حالات پاکستان کے لیے انتہائی نازک نوعیت کے ہیں اور کسی بھی وقت کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جہاں پورا خطہ زیادہ خطرناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے۔

سجاد اظہر نے اپنی تحریر میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ایران کی جوابی کارروائیوں کا رخ زیادہ تر خطے کے مسلم ممالک کی جانب ہے تو اس صورتحال کو کس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا موجودہ تنازع بنیادی طور پر سیاسی اور تزویراتی نوعیت کا ہے یا اس میں فرقہ وارانہ پہلو غالب آ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کا ذاتی تجزیہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں مسلکی تقسیم نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے ایران کے بانی رہنما امام خمینی کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ جو شخص شیعہ اور سنی کے درمیان تفرقہ پیدا کرے، وہ نہ شیعہ ہے، نہ سنی بلکہ اسلام کا دشمن ہے سجاد اظہر کے مطابق آج یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں اسی اصول پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ سعودی عرب سے سیاسی یا مسلکی اختلاف اپنی جگہ، تاہم حرمین شریفین کا تقدس ہر مسلمان کے لیے ہر اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ان کے بقول اگر ان مقدس مقامات کے احترام کو صدیوں پرانے سیاسی تنازعات کی نذر کیا جاتا ہے تو یہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

اپنی رائے کے اختتام پر سجاد اظہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ جیسے خود کو دہرا رہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اور گھوڑے استعمال کرتے تھے، جبکہ آج انہی تنازعات میں میزائل اور جنگی طیارے استعمال ہو رہے ہیں، مگر خون آج بھی مسلمانوں کا ہی بہہ رہا ہے۔