New US attacks on Iran, in response Iran targets US bases in Kuwait and Bahrain

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے نام پر ایران کے مختلف فوجی اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے، جس کے بعد ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں عالمی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں بندر عباس، چابہار، کنارک، ایران شہر اور دیگر جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بعض مقامات پر بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ چابہار میں میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور کو نقصان پہنچنے جبکہ ایران شہر ایئرپورٹ پر ایک فائر فائٹر کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی۔

جواباً ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی مراکز پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے مزید کارروائیاں جاری رکھیں تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر آپ حملہ کریں گے تو جواب بھی ملے گا، اور آبنائے ہرمز صرف ایران کی شرائط کے مطابق ہی محفوظ ہوگی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی، تاہم انہیں مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

ایران نے امریکی حملوں کو 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھا دیا ہے۔ ادھر بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 78.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔