New offer to end political deadlock, Gauhar Khan invites government for talks

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے پارٹی قیادت اور بانی عمران خان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں اور خیبر پختونخوا میں مبینہ چھاپوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لاہور میں عمران خان کی گرفتار بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کے 4 افراد اور قومی اسمبلی کے 8 ارکان اس وقت زیر حراست ہیں، جبکہ بعض صوبائی وزرا کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سیاسی تنازعات صرف سیاسی طریقے سے حل کیے جاسکتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

گوہر خان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت ان اسٹیک ہولڈرز سے بھی واقف ہے جنہیں سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکرات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس جعفری اور پی ٹی آئی رہنما مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا وفاقی حکومت نے مناسب جواب نہیں دیا۔ گوہر خان کے مطابق اس وقت کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہورہے اور حکومت سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے خیبر پختونخوا کی صورتحال کو غیر اعلانیہ گورنر راج قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ پر مؤثر طور پر کنٹرول حاصل کررہی ہے، حالانکہ صوبے میں پی ٹی آئی کا جمہوری مینڈیٹ ہے۔

تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایک روز قبل خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

گوہر خان نے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے دوران ریاستی اداروں پر حملے کے الزامات بھی مسترد کیے اور کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کو پرامن رکھنا چاہتی ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کے دو صوبائی وزرا کے گھروں پر چھاپوں اور جنوبی وزیرستان سے پارٹی حمایت یافتہ رکن قومی اسمبلی محمد زبیر خان وزیر کی گرفتاری کی بھی مذمت کی ہے۔