اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، امریکا ہر صورت مضبوط پوزیشن میں رہے گا۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے، تاہم اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو بھی واشنگٹن کے مفادات محفوظ رہیں گے۔
فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران میں مستقل نوعیت کی تبدیلی آئے گی، تاہم امریکا کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں یا عالمی تجارتی راستوں کو نشانہ بنایا تو امریکا فوری اور سخت فوجی ردعمل دے گا۔ جے ڈی وینس کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے بلکہ بعض دنوں میں اس سے بھی زیادہ رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی اعلیٰ سطحی وفد سے کسی قسم کے براہِ راست مذاکرات طے نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پہلے جنگ بندی سے متعلق معاملات کو مکمل طور پر حل کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد ہی دیگر اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام، پر بات چیت ممکن ہوگی۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف دوحہ پہنچ چکے ہیں، تاہم قطر اور ایران دونوں نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں سے براہِ راست ملاقات شیڈول میں شامل نہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق تکنیکی سطح پر رابطے جاری رہیں گے۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید فوجی کارروائی کے امکان پر بھی مشاورت کی، تاہم فی الحال سفارت کاری کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی خودمختاری ایران اور عمان کے پاس ہے اور اسی بنیاد پر مستقبل میں بحری آمدورفت سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی شق بھی شامل ہے، تاہم لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے لبنان۔اسرائیل معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کو حزب اللہ کی غیر مسلحی سے مشروط کرنے سے امن عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ان اختلافات کا حل ناگزیر ہوگا۔
