Israeli airstrike hits Iranian petrochemical facility, sirens sound in Israel from Iranian missile attacks
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کی ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کو نقصان پہنچا، جبکہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے باعث اسرائیل کے متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
ایرانی حکام کے مطابق صوبہ خوزستان کے شہر مہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں صنعتی کمپلیکس کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا۔ خوزستان کے نائب گورنر برائے سکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ نقصانات کی مکمل تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور کرج کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے حملوں میں فضاء سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائلوں کے بعد وسطی اور جنوبی اسرائیل سمیت مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کارروائی کی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق رات بھر مختلف مراحل میں تقریباً 10 میزائل اسرائیل کی جانب فائر کیے گئے۔
ادھر یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سے منسلک بحری جہاز اب دوبارہ ان کے اہداف ہوں گے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تل ابیب کے قریب یافا کے علاقے میں حساس مقامات پر میزائل حملہ بھی کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تازہ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جبکہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روکنے کے بعد اسرائیل نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی تھیں، جنہیں بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔




