Iranian ship and crew taken into US custody transferred to Pakistan, Strait of Hormuz crisis continues
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے تحویل میں لیے گئے ایرانی کارگو جہاز ایم/وی توسکا کے 22 رکنی عملے کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر افراد کو پہلے ہی ایک علاقائی ملک کے ذریعے بھیجا جا چکا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق جہاز کے 22 عملے کو پاکستان کے حوالے کیا گیا، جبکہ 6 افراد جنہیں ایرانی میڈیا نے اہلِ خانہ قرار دیا تھا گزشتہ ہفتے منتقل کیے گئے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق جہاز کو 19 اپریل کو خلیجِ عمان میں چاہ بہار بندرگاہ کے قریب اس وقت تحویل میں لیا گیا جب اس نے امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اور بارہا وارننگز کے باوجود نہ رکا۔ جہاز اسلامی جمہوریہ ایران شپنگ لائنز گروپ کا حصہ بتایا جاتا ہے، جس پر پہلے ہی امریکی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا کا کہنا ہے کہ اب جہاز کی ملکیت اصل مالک کو واپس منتقل کی جا رہی ہے، جبکہ ایران نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کی جانب سے راستہ محدود کیے جانے کے باعث عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہے۔ اندازوں کے مطابق سینکڑوں جہاز اور تقریباً 20 ہزار ملاح اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن فریڈم فیوری کے تحت جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں 15 ہزار فوجی اہلکار، درجنوں طیارے اور بحری اثاثے شامل ہوں گے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایرانی رہنما ابراہیم عزیزی کے مطابق ایسی کسی کوشش کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔





