UAE denies reports of billions of dollars being released to Iran
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ متحدہ عرب امارات ایران کے لیے اربوں ڈالر کی مالی سہولت فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم اماراتی حکومت نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مختلف ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران اور یو اے ای کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے 10 سے 20 ارب ڈالر تک کے مالی انتظامات پر بات چیت ہوئی، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔
تاہم یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایران کے کسی بھی منجمد فنڈز کو نہ تو جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی منتقلی میں امارات نے کوئی کردار ادا کیا ہے۔ وزارت نے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایرانی اثاثوں اور تیل کی آمدنی سے متعلق معاملات بھی زیر غور ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی معاہدے کے بدلے براہ راست مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی، تاہم معاہدے کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں اقتصادی فوائد ممکن ہیں۔





