The Rs 1.88 trillion budget is focused on development and investment, Finance Minister said in a post-budget press conference.
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال معیشت کو استحکام دینے کے بعد اب ترقی کی جانب پیش رفت کا وعدہ کیا تھا اور مالی سال 2026-27 کا بجٹ اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
بعد از بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ ایکسپورٹرز کو 4.5 فیصد شرح پر فنانسنگ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خام مال اور صنعتی پیداوار میں استعمال ہونے والی اشیا پر ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ برآمدات پر مبنی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور تجارتی خسارے میں کمی پر مرکوز ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کم آمدنی والے سلیبز میں ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے، جبکہ تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو متحرک کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ٹیکسز میں بھی کمی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے مالی سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور زرعی فنانسنگ 2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی قرضہ اسکیمیں بھی جاری رکھی گئی ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ بجٹ تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں، برآمد کنندگان، تعمیراتی شعبے اور عام شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری اور مختلف چیمبرز کی مشاورت سے بجٹ میں متعدد تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے برآمدات، سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو ترجیح دی ہے تاکہ معاشی استحکام کے بعد ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18.8 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا ہے، جس میں معاشی نمو، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ تاہم بجٹ میں تقریباً 7 کھرب روپے کے خسارے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے، جسے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کے ذریعے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔





