Trump claims deal with Iran is close, Tehran denies final decision
اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بہت اچھا تصفیہ طے پا چکا ہے اور ممکن ہے کہ معاہدے پر دستخط رواں ہفتے کے آخر میں ہو جائیں۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ایرانی قیادت نے بھی اصولی طور پر اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے کئی نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایران اپنی بنیادی پالیسیوں اور سرخ لکیروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق معاملہ ابھی متعلقہ اداروں کے زیر غور ہے اور حتمی منظوری باقی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت موجودہ جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع کی جائے گی اور ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحال کرنے، تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت کو معمول پر لانے اور ایران کو مرحلہ وار پابندیوں میں ریلیف دینے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق قطر اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والے اس ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد معاہدہ کا نام دیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی افواج نے دو ایرانی ڈرون مار گرائے، جبکہ ایرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ ایرانی فورسز نے ایک آئل ٹینکر کو آبنائے سے گزرنے سے روک دیا۔
اسی دوران لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، تاہم جانی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ ایران مسلسل اس مؤقف کو دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔





