اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا ایک اہم معاہدہ سامنے آنے والا ہے، جس کے تحت مملکت میں پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بدھ کو اس معاہدے کا باضابطہ اعلان کر سکتی ہے، جبکہ اسے جلد امریکی کانگریس میں بھی پیش کیا جائے گا۔
نیویارک ٹائمز اور رائٹرز کے مطابق معاہدہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان کے درمیان طے پائے گا۔ یہ 30 سالہ تعاون امریکی جوہری صنعت کے لیے اربوں ڈالر کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سول نیوکلیئر منصوبوں میں سرمایہ کاری کا راستہ فراہم کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق اگر مشترکہ تکنیکی جائزہ ضروری قرار دے تو امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیبات قائم کر سکیں گی، تاہم امریکہ حساس جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا پابند نہیں ہوگا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ دوبارہ جھڑپوں نے خطے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دوسری جانب اس مجوزہ معاہدے پر عدم پھیلاؤ کے ماہرین اور بعض امریکی قانون ساز تحفظات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں وہ سخت شرائط شامل نہیں جو سعودی عرب کو مستقبل میں یورینیم افزودگی یا استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پراسیسنگ سے روک سکیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق اقدامات کرے گا۔ یہی بیان اس معاہدے پر بین الاقوامی بحث کا ایک اہم سبب بنا ہوا ہے۔
امریکی قوانین کے مطابق معاہدہ کانگریس میں پیش ہونے کے بعد جائزے کے مرحلے سے گزرے گا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ اسے جلد نافذ کرنے کی خواہاں ہے تاکہ توانائی، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون کے شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنائے جا سکیں۔
