اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ سوڈان کے متنازع علاقے ابیئی میں امیئٹ بازار پر مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک اور کم از کم 27 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی حکام نے حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بازار کو نشانہ بنانے کے لیے بھاری گولہ بارود استعمال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ پیر کے روز کیا گیا، جب بازار میں تاجروں اور خریداروں سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ متاثرین میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس جانے والے شہری اور علاقائی تنازع سے فرار ہو کر آنے والے سوڈانی پناہ گزین بھی شامل تھے۔

اقوام متحدہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک کے مطابق امیئٹ بازار پر حملے میں کم از کم 28 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتا ہیں۔ انہوں نے سوڈان میں ڈرون حملوں میں اضافے کو تشویش ناک رجحان قرار دیتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹس کے مطابق اتوار اور پیر کے روز سوڈان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ملک میں اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی ہو چکی ہے۔

ابیئی ایک متنازع علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان 2011 میں کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد سوڈان سے الگ ہو کر آزاد ملک بنا تھا۔ علاقے کے بعض حصوں میں سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے ایک دھڑے کا بھی اثر و رسوخ ہے۔

جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے سوڈانی سفیر کو طلب کرکے الزام لگایا کہ فوج نے بازار کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ وزارت کے مطابق یہ بازار ان علاقوں تک سامان پہنچانے کا اہم راستہ ہے جو آر ایس ایف کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق اور ذمہ داری کا حتمی تعین ہونا ابھی باقی ہے۔