اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں نے خلیجی ممالک میں توانائی اور تجارتی تنصیبات کو نشانہ بنا کر اہم نظاموں کو نقصان پہنچایا، جس کے اثرات تیل و گیس کی پیداوار سے لے کر عالمی منڈیوں تک محسوس کیے گئے۔ رائٹرز کی تحقیق کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف بمباری شروع ہونے کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں کم از کم 84 تنصیبات پر 135 ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
تحقیق میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق، عمان اور بحرین میں حملوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کئی حملوں میں عمومی عمارتوں کے بجائے تیل کی منتقلی، گیس کو مائع بنانے اور صنعتی پیداوار کے لیے ضروری آلات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے بعض تنصیبات کی سرگرمیاں کئی ہفتوں یا مہینوں تک متاثر رہیں۔
متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کو جنگ کے دوران سب سے زیادہ نشانہ بننے والے مقامات میں شمار کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع یہ بندرگاہ امارات کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق فجیرہ پر کم از کم 19 حملے ہوئے۔ مئی میں ایک ڈرون حملے کے بعد ریفائن شدہ پیٹرولیم کی برآمدات تقریباً ایک ماہ تک رک گئیں، جبکہ معمول کی بحالی ستمبر تک نہ ہوسکی۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر 10 ستمبر کے حملے سے خام تیل کی ترسیل معطل ہوئی، جس سے عالمی رسد کے تقریباً چار فیصد حصے کو خطرہ لاحق ہوا۔ ادھر قطر کے راس لفان ایل این جی پلانٹ میں دو اہم کولنگ یونٹس کو نقصان پہنچا، جس سے عالمی مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
رائٹرز نے 36 افراد کے انٹرویوز، سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز اور سرکاری بیانات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کا جائزہ لینے والے 14 ماہرین اور متعلقہ افراد نے کہا کہ اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی بنیادی وجہ محض فضا میں روکے گئے ہتھیاروں کا ملبہ ہونا انتہائی غیر محتمل ہے۔
سابق امریکی میرین افسر ریان اسٹیونز نے ایرانی حملوں کو درست نشانہ بندی، ہدف شناسی اور صبر سے کی گئی کارروائی قرار دیا۔ امریکی سینٹ کام نے ایران پر پڑوسی ممالک اور تجارتی جہازوں کو اندھا دھند نشانہ بنانے کا الزام لگایا، جبکہ ایران کے جنیوا میں اقوام متحدہ کے مشن نے رائٹرز کی درخواست پر تبصرہ نہیں کیا۔
