Political progress of Arab and Muslim voters from America to Israel, election results set a new standard

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں عرب اور مسلم امیدواروں کی نمایاں کامیابیوں نے دونوں ممالک کے سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انتخابی نتائج کو مسلم ووٹرز کے بڑھتے سیاسی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکا میں عبدل السید مشی گن سے سینیٹ کی نشست جیت کر ملک کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے، جبکہ کم از کم سات مسلم امیدواروں نے کانگریس کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

 اسرائیل میں بھی عرب جماعتوں نے 27 اکتوبر کے انتخابات میں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے ممکنہ طور پر فیصلہ کن کردار حاصل کرلیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ، ایران کے ساتھ تنازع، اسلاموفوبیا اور معاشی مسائل نے امریکی مسلم ووٹرز کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 انسٹی ٹیوٹ فار سوشل پالیسی اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے اعدادوشمار کے مطابق اہل مسلم امریکی ووٹرز میں رجسٹریشن کی شرح 2016 میں 60 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 85 فیصد ہوگئی۔

تجزیہ کار جیمز زوگبی کا کہنا ہے کہ عرب امریکی برادری گزشتہ چار دہائیوں میں سیاسی طور پر زیادہ منظم ہوئی ہے، جبکہ غزہ جنگ نے اس عمل کو مزید تقویت دی۔

 دوسری جانب جارجیو کافئیرو کے مطابق انتخابی نتائج میں ٹرمپ انتظامیہ کی اسرائیل سے متعلق پالیسیوں اور اسلاموفوبک مہم کے خلاف ردعمل بھی شامل تھا۔

امریکی انتخابات میں اسرائیل نواز سیاسی کمیٹیوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھے۔ رپورٹ کے مطابق بعض امیدواروں کی حمایت میں سرگرم سیاسی گروپوں نے مجموعی طور پر 84.1 ملین ڈالر خرچ کیے، تاہم 55.3 ملین ڈالر ان انتخابی حلقوں میں صرف ہوئے جہاں ان کے پسندیدہ امیدوار کامیاب نہ ہوسکے۔

اسرائیل میں جوائنٹ لسٹ نے 11 جبکہ رام جماعت نے 8 نشستیں حاصل کیں۔ اس طرح عرب جماعتوں کی مجموعی نشستیں 19 ہوگئیں، جو حکومت سازی میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔

 تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق نسلی امتیاز اور عرب جماعتوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھنے کی کوششیں ان کے سیاسی اثر کو محدود کرسکتی ہیں۔