اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان اور قطر نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگنسٹاک میں ہونے والے امریکا اور ایران کے پہلے اعلیٰ سطحی مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 60 روز کے اندر جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ اور متعدد عملی میکنزمز پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے مذاکراتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ فریقین نے ایک ہائی لیول کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ دونوں ممالک کے چیف مذاکرات کار اس کمیٹی کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں گے جبکہ جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سمیت اہم موضوعات پر ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔
فریقین نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا کشیدگی سے بچنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطے کا نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اسی طرح لبنان میں جنگ بندی اور عسکری سرگرمیوں کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایران، امریکا اور لبنان پر مشتمل ایک ڈی کنفلیکشن سیل بھی قائم کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 60 روزہ روڈ میپ، ہائی لیول کمیٹی کا قیام اور تکنیکی مذاکرات کا آغاز خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کی قیادت کے تعمیری رویے کو سراہتے ہوئے قطر کے کردار کی بھی تعریف کی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے نتائج کو پاکستان اور قطر کی مؤثر ثالثی کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے لیے رعایتوں، بعض منجمد اثاثوں کی رہائی، بحری ناکہ بندی میں نرمی اور ایران کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے۔
اسی دوران امریکی انتظامیہ نے ایرانی تیل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں 60 روزہ عارضی نرمی کا اعلان کیا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو رسائی دینے کے حوالے سے یقین دہانیاں کرائی ہیں، جس کے بعد ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے عارضی جنرل لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ یہ رعایت 21 اگست تک مؤثر رہے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو انتہائی مثبت دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے وسیع تر معاہدے کی بنیاد رکھ دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے بعض امریکی دعوؤں سے اختلاف کیا ہے۔
