A major decision by King Mohammed VI, Fatima al-Zahra al-Mansouri became Morocco's first female prime minister

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ یہ تقرری 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی کے بعد عمل میں آئی۔

50 سالہ فاطمہ المنصوری کی جماعت پی اے ایم نے 395 رکنی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ 97 نشستیں حاصل کیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے اسے اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

المنصوری نے اپنی تقرری کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مراکش کی خواتین کے لیے باعث فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے لیے کام فوری طور پر شروع کیا جائے گا اور پہلے جماعت کے اندر مشاورت کے بعد دیگر سیاسی گروہوں سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

پی اے ایم کے بعد نیسشل ریلی آف انڈیپنڈنٹس نے 66 نشستیں جبکہ اتقلال پارٹی نے 65 نشستیں حاصل کیں۔ سابق حکمران جماعت  ڈویلپمنٹ پارٹی نے 54 نشستوں کے ساتھ دوبارہ پارلیمان میں اپنی پوزیشن بہتر کی، تاہم اس نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

المنصوری 2008 میں پی اے ایم میں شامل ہوئی تھیں اور 2009 میں مراکش شہر کی پہلی خاتون میئر بنیں۔ 2015 میں وہ یہ عہدہ ہار گئیں، تاہم 2021 میں دوبارہ میئر منتخب ہوئیں۔ وہ اس سے قبل ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر بھی رہ چکی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔

نئی حکومت کو بے روزگاری، بڑھتی مہنگائی، سماجی عدم مساوات اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ حالیہ عرصے میں ہزاروں نوجوان مراکشی شہری اسپین کے زیرانتظام علاقے سیوتا کی جانب بھی گئے تھے، جبکہ ملک میں صحت اور تعلیم کے مسائل پر نوجوانوں کے احتجاج بھی سامنے آچکے ہیں۔

پی اے ایم نے انتخابی مہم کے دوران اوسطاً 5 فیصد سالانہ اقتصادی ترقی، 2 فیصد افراط زر اور پانچ برس میں 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

المنصوری عرب دنیا میں حکومت کی سربراہی کرنے والی دوسری خاتون ہیں، ان سے قبل تیونس کی نجلا بودن یہ منصب سنبھال چکی ہیں۔ نئی حکومت 2030 کے فٹبال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے اہم مرحلے کی بھی نگرانی کرے گی، جس کی میزبانی مراکش اسپین اور پرتگال کے ساتھ کرے گا۔