اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی مسائل حل ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کے دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور جنرل محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی معاملات اور ایران امریکا کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں یہ عاصم منیر کا ایران کا پانچواں دورہ تھا۔ ان کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت تک ملاقاتوں پر تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، تاہم دورے سے واقف ایک اہلکار نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے سرحد کھلنے کی تصدیق کی۔
ایرانی حکام کے جاری کردہ بیانات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل محسن رضائی سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد سے متعلق مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور سرحد اسی صبح دوبارہ کھول دی گئی۔ قالیباف سے ملاقات میں انہوں نے حالیہ مسائل کو عارضی اور تکنیکی نوعیت کا قرار دیا۔ سرحد کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی آمدورفت کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ملاقاتوں میں ایران امریکا تنازع بھی نمایاں رہا۔ جنرل رضائی نے کہا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہ مواد ایران کا قومی اثاثہ ہے اور اسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو مذاکرات کی بحالی کے لیے پہلے ایران کی شرائط پوری کرکے اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
قالیباف نے بھی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تہران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پوری کرے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر نام نہاد اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکی دھمکیاں ایران کے عدم اعتماد میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق فوجی دباؤ اور دھمکیاں ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ پزشکیان نے آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار بھی امریکا کو ٹھہرایا۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل امریکی پیغام بھی ایرانی قیادت تک لے کر گئے، جس کے جواب کو واضح اور سنجیدہ قرار دیا گیا، تاہم پیغام اور جواب کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
