Iran issues warning to ships in the Strait of Hormuz; claims damage to oil tanker's engine room.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بڑے تیل بردار جہاز کو بارودی سرنگ سے نقصان پہنچا، جس کے باعث اس کے انجن روم کو نشانہ بننے کی اطلاع ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تک تیل لے جانے کی گنجائش تھی، تاہم جہاز کی شناخت، نقصان کی نوعیت اور واقعے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز اپنا نیوی گیشن سسٹم بند کرکے ایسے راستے سے گزر رہا تھا جسے ایران نے ممنوع قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز سے اس نوعیت کے واقعات میں نشانہ بننے والا یہ تیسرا جہاز ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ نیوی گیشن نظام بند کرکے مقررہ راستوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو دشمن تصور کیا جاسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی یا جہاز رانی میں رکاوٹ سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور تجارتی سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

ایرانی دعوے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ اور سمندری راستوں کے کنٹرول پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے 12 جولائی کو امریکی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی بھی نافذ کی۔ اگست کے آخر میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے بعد کھول دیا گیا ہے۔

ایرانی سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر اور متحدہ عرب امارات کی فوج پر تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے تیل بڑے ٹینکروں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ان الزامات پر امریکا اور متحدہ عرب امارات کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رضائی نے مزید دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران امریکی مفادات سے منسلک زیرِ سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان دعوؤں اور دھمکیوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔