Claim of attack on power station supplying the Prophet's Mosque; war of accusations between Saudi Arabia and the Houthis.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ نے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں کے ڈرون نے مدینہ منورہ میں ایک پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم بجلی کے مجموعی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

سعودی اتحاد کے مطابق مذکورہ اسٹیشن مسجد نبویؐ کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ اتحاد نے کہا کہ ڈرون کے ملبے کی تحقیقات اور تکنیکی معائنے سے حملے کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

تاہم حوثیوں نے سعودی الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔ حوثی فوجی ذریعے نے، جس کا بیان حوثی زیرانتظام خبر رساں ادارے صبا نے جاری کیا، کہا کہ یہ الزام سعودی عرب کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سابقہ دعوے کا ثبوت فراہم نہ کرنے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو محدود فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا گیا تھا۔ سعودی اتحاد نے اسے 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری مبینہ کوشش قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ یا کسی بھی اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے سے انکار کیا تھا۔

ادھر حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے یمن کے دارالحکومت صنعا اور صعدہ، تعز اور عمران صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ سعودی عرب نے ان حملوں کی فوری تصدیق نہیں کی۔

تاہم سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے کہا کہ انہوں نے صوبہ تعز میں حوثی پوزیشنز کے خلاف دو درجن سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں میزائل ذخائر، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ کشیدگی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سب سے سنگین لڑائی ہے۔ 2026 میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحری جہازوں کے خلاف حملوں کے بعد سعودی عرب نے یمن میں فضائی کارروائیاں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کی مدد دوبارہ تیز کی ہے۔