5 people including 3 Pakistanis killed, oil tanker recovered from pirates

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق صومالی میری ٹائم پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اپریل میں مسلح قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والا تیل بردار جہاز ایم ٹی اونر 25 پانچ ماہ سے زائد عرصے بعد بازیاب کرا لیا گیا ہے، تاہم کارروائی کے دوران عملے کے جانی نقصان کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پالاؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر پر مجموعی طور پر 19 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ صومالی حکام کے مطابق جہاز کو 21 اپریل کو پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔

پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس کے بحری اور زمینی یونٹس نے بندر بیلا ضلع کے علاقے دھرین بار میں منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی۔ پولیس کے مطابق آپریشن مکمل ہونے کے بعد جہاز محفوظ ہے اور اب پنٹ لینڈ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 21 مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔ صومالی میری ٹائم پولیس کے مطابق آپریشن شروع ہونے سے قبل جہاز پر موجود قزاقوں نے عملے کے 5 ارکان کو قتل کردیا، جن میں 3 پاکستانی، ایک میانمار اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔

حکام کے مطابق مزید 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں 3 پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔ تاہم ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔

جہاز کے ایک پاکستانی فٹر کی اہلیہ عائشہ امین نے بتایا کہ خاندان کو ہلاکتوں کی اطلاعات تو ملی ہیں لیکن وہ ناموں کی تصدیق نہیں کر سکے۔ ان کے شوہر امین بن شمس کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندان جہاز کے کپتان سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن کالز کا جواب نہیں مل رہا۔ ان کے مطابق زخمی افراد اور لاشیں اب بھی جہاز پر موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ 7 انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری شامل تھے۔

اغوا کے بعد تقریباً 3 ملین ڈالر تاوان کی ادائیگی کے حوالے سے مذاکرات میں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ معاملہ جہاز کی ملکیت کے تنازع سے بھی پیچیدہ رہا، کیونکہ جس شخص کو مالک سمجھا جا رہا تھا، وہ بعد میں ممکنہ طور پر عملہ فراہم کرنے والا درمیانی شخص نکلا۔

قید کے دوران عملے نے ویڈیوز اور آڈیو پیغامات کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کے پاس صاف پانی، خوراک اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔ اہل خانہ نے اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن سے بھی مدد کی اپیل کی تھی۔

وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ آئی ایم او کے سربراہ سے ملاقات میں پاکستانی ملاحوں کی واپسی کے لیے فوری اور مؤثر ادارہ جاتی مداخلت پر زور دیا تھا۔

انصار برنی ٹرسٹ نے بھی معاملے میں مدد کی کوشش کی۔ ادارے کے مطابق آئی ایم او نے زخمیوں اور ہلاک افراد کی لاشیں ان کے آبائی ممالک منتقل کرنے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

صومالی قزاقی میں حالیہ عرصے میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے اور اپریل کے بعد کم از کم 15 حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔