Major development following the postponement of the long march the Islamabad-Peshawar Motorway has been opened to traffic.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے اسلام آباد اور پشاور کے درمیان موٹروے ایم -1 کو دونوں سمتوں سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق اسلام آباد اور پشاور کے درمیان جی ٹی روڈ این -5 بھی ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی ہے۔

یہ شاہراہیں گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کے تحت غیر معینہ مدت کے لیے بند کی گئی تھیں۔

22 ستمبر کو جاری ہدایات کے مطابق ایم -1 کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے بند کیا گیا تھا، جبکہ ایم-14 پر حکلہ سے کندل تک ٹریفک روک دی گئی تھی۔ جی ٹی روڈ کو بھی اٹک خورد کے مقام پر بند کردیا گیا تھا۔

موٹروے پولیس کے مطابق ایم-14 کے حکلہ تا کندل سیکشن پر بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ ایم-1 سے ہزارہ موٹروے کو ملانے والے لوپ کی بحالی بھی زیر عمل ہے۔

اسلام آباد سے ایبٹ آباد جانے والے مسافروں کو ایم-1 سے برہان انٹرچینج پر اتر کر حسن ابدال کے راستے جی ٹی روڈ استعمال کرنے اور جھاری کس کے مقام پر دوبارہ ہزارہ ایکسپریس وے سے منسلک ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب اٹک میں گزشتہ دنوں سکیورٹی سخت کردی گئی تھی۔ اہم پلوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز اور ریت کی بوریاں رکھی گئی تھیں، جبکہ چچھ اور غازی انٹرچینجز سمیت اہم مقامات پر بھی اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ پی ٹی آئی کا مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع ہوگا۔ پارٹی نے مارچ کو بانی عمران خان کی رہائی اور ملک گیر احتجاج کے سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔

پنجاب حکومت نے اجتماعات اور غیر قانونی اسمبلی پر اکسانے کے خلاف 13 روزہ پابندی نافذ کی تھی، جبکہ اسلام آباد میں دفعہ 144 بھی دو ماہ کے لیے نافذ ہے۔