Pakistan is bound to respond if holy sites are attacked Khawaja Asif's unequivocal stance.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آگیا ہے۔ ان کا بیان سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے قریب حوثیوں کی جانب سے مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کے بعد سامنے آیا۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان پر لاگو ہوتا ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کسی معاہدے کا محتاج نہیں، کیونکہ ان مقامات کا تحفظ پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے معاہدے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔

خواجہ آصف کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کا پیغام ایران تک پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ خطے میں ایک اور محاذ کھولنے سے گریز کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے ایک حوثی ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ مقدس شہر کی جانب ڈرون حملے کی دوسری کوشش تھی، جبکہ اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی مکہ مکرمہ کی جانب بیلسٹک میزائل داغے جانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں بھی حملوں کے حوالے سے صورتحال کشیدہ رہی۔ جازان، ابہا اور خمیس مشیط میں سائرن بجائے گئے، جبکہ پیر کے روز حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے تناظر میں خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر مقدس مقامات کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اپنے وعدے کے مطابق کردار ادا کرے گا۔