اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکا کے اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ کانگریس کے غیر جماعتی بجٹ دفتر نے اندازہ لگایا ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر ماہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔
سی بی او کے مطابق یکم اگست تک امریکی محکمہ دفاع کے جنگی اخراجات تقریباً 38.1 ارب ڈالر تھے۔ ادارے نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات کے باعث 2027 کی پہلی سہ ماہی میں امریکی افراط زر میں 0.5 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی اسلحے کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اخراجات کا بڑا حصہ استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو دوبارہ حاصل کرنے پر آیا، جس پر 21.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ میزائل دفاعی انٹرسیپٹرز پر 13.1 ارب ڈالر لاگت آئی۔
سی بی او کے مطابق امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں تقریباً پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ اس کمی نے امریکی دفاعی تیاری اور مستقبل میں کسی دوسرے بڑے تنازع سے نمٹنے کی صلاحیت کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جولائی میں سینیٹ کی سماعت کے دوران ہتھیاروں کے ذخائر بحال کرنے کے لیے تقریباً 90 ارب ڈالر کی ہنگامی فنڈنگ کا مطالبہ کیا تھا۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں خلل اور خطے میں توانائی تنصیبات پر حملوں نے عالمی تیل اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ تھا۔
سی بی او کا موجودہ تخمینہ حالیہ بعض حملوں کے تمام اخراجات کا احاطہ نہیں کرتا۔ رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں حالیہ تجارتی جہازوں پر حملوں کے اخراجات اور جنگ کی مالی معاونت کے لیے لیے گئے قرضوں پر سود شامل نہیں، جس سے مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکا کا مجموعی سرکاری قرض بھی اگست میں 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، جس کے باعث جنگی اخراجات نے ملکی مالی صورتحال پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
سی بی او کے مطابق جنگ کی شدت کم رہنے کی صورت میں اضافی ایک ماہ کا خرچ تقریباً 2 ارب ڈالر جبکہ جولائی جیسی شدت برقرار رہنے پر یہ رقم 3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
