اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات نے ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ زہرہ کے گرد کبھی ایک قدرتی چاند موجود تھا، لیکن سیارے کی انتہائی سست گردش کے باعث وہ بتدریج زہرہ کے قریب آتا گیا اور بالآخر اسی میں جا گرا۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریور سائیڈ کے سائنسدانوں کی تحقیق پیر کو دی ایسٹرو فیزیکل جرنل میں شائع ہوئی۔ تحقیق کی قیادت ماہر فلکیات اسٹیفن کرین نے کی۔
کرین نے بتایا کہ اگر زہرہ کے گرد کبھی چاند موجود تھا تو اس کے لیے طویل عرصے تک مدار میں رہنا مشکل تھا۔ ان کے مطابق زہرہ اتنی سست رفتاری سے گردش کرتا ہے کہ اس کے گرد موجود قدرتی سیٹلائٹ وقت کے ساتھ اندرونی جانب بڑھتے ہوئے سیارے سے ٹکرا سکتا تھا۔
سائنسدانوں نے مختلف حجم کے فرضی چاندوں کے ساتھ کمپیوٹر ماڈلز تیار کیے۔ سیاروی طبیعیات اور کشش ثقل کے اصولوں پر مبنی ان ماڈلز میں مختلف صورتوں کے باوجود نتیجہ تقریباً ایک ہی نکلا کہ چاند بالآخر زہرہ کی سطح سے ٹکرا سکتا تھا۔
تحقیق کے مطابق یہ ممکنہ واقعہ زہرہ کی تاریخ کے ابتدائی ایک ارب سال کے دوران پیش آیا ہوگا، جبکہ ہمارے نظام شمسی کی عمر تقریباً 4.5 ارب سال ہے۔
اس سے قبل سائنسدانوں کی جانب سے یہ امکانات پیش کیے جاتے رہے ہیں کہ زہرہ نے کبھی چاند حاصل ہی نہیں کیا یا اس کا ممکنہ چاند کسی بڑے خلائی تصادم میں تباہ ہوگیا۔
تحقیق میں زمین اور اس کے چاند کے تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ زمین تقریباً ہر 24 گھنٹے میں اپنے محور پر ایک چکر مکمل کرتی ہے، جبکہ زہرہ کو ایک گردش مکمل کرنے میں تقریباً 243 زمینی دن لگتے ہیں۔
زمین کی نسبت تیز گردش کے باعث زمین سے چاند کو توانائی منتقل ہوتی ہے اور وہ ہر سال تقریباً 4 سینٹی میٹر دور جا رہا ہے۔ اس فاصلے کی پیمائش 1969 میں اپالو 11 کے خلا نوردوں کی جانب سے چاند پر نصب کیے گئے آئینوں کی مدد سے کی جاتی ہے۔
زہرہ جسامت اور ساخت کے لحاظ سے زمین سے سب سے زیادہ مشابہ سیاروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کا ماحول انتہائی زہریلا ہے اور سطح کا درجہ حرارت تقریباً 471 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، جو سیسے کو پگھلانے کے لیے کافی ہے۔
