اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا، جس کے ردعمل میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی نسلی صفائی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے نئے طرز عمل کا آغاز ہے، جس میں ناانصافی اور انسانی تکلیف کی نشاندہی کے ساتھ عملی اقدامات بھی شامل ہوں گے۔
برطانیہ کی نئی پابندیوں کے تحت غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
ملی بینڈ نے واضح کیا کہ پابندیوں کا ہدف اسرائیل نہیں بلکہ غیر قانونی بستیاں اور ان کی توسیع ہے۔ برطانیہ میں مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں کی تشہیر پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام دو ریاستی حل کے تحفظ کی کوششوں میں ایک اہم موڑ ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق برطانیہ آئندہ 6 سے 9 ماہ کے دوران ایک جامع پابندیوں کا نظام متعارف کرائے گا۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے برطانوی فیصلے کو اشتعال انگیز جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو برطانوی حکومت کے اقدامات کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔
سار نے مشرقی یروشلم میں موجود برطانوی قونصل خانے کی بندش کا اعلان کیا، جو یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 11 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو اسرائیل میں داخلے سے روک دیا جائے گا، جن میں جیریمی کوربن، ڈیان ایبٹ اور گرین پارٹی کے تمام پانچ موجودہ ارکان شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے ان ارکان پر اسرائیل مخالف اور یہود مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کیا۔
ملی بینڈ نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون شہریوں کے تحفظ، خوراک اور طبی امداد تک رسائی اور بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی سے بچنے کے اصول طے کرتا ہے۔ ان کے مطابق سنگین خلاف ورزیاں ثابت ہونے کی صورت میں وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات پر حتمی فیصلہ بین الاقوامی عدالتوں کو کرنا ہوگا۔
اسرائیل نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات مسترد کرتا ہے اور مؤقف رکھتا ہے کہ اس کی فوج بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہے۔
برطانوی فیصلے پر اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ یہ اقدام تاریخ کے غلط رخ پر ہوگا، جبکہ ان کے مطابق پابندیاں مسئلے کا حل نہیں اور تعمیری مذاکرات کی ضرورت ہے۔
برطانیہ کے چیف ربی سر ایفرائیم میر ویس نے بھی پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے برطانوی یہودیوں کے لیے تاریک دن قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن برطانیہ کے اقدام پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا برطانیہ جیسا اقدام نہیں کرے گا۔
