150 mm of rain revealed the secret, the major problem of construction on drains behind Islamabad's floods came to light

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں حالیہ شدید بارش کے بعد آنے والے سیلاب نے صرف موسمی شدت ہی نہیں بلکہ شہر کے ماسٹر پلان پر عمل درآمد، قدرتی نالوں کی گزرگاہوں اور سی ڈی اے کی نگرانی سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اسلام آباد میں 150 ملی میٹر بارش کے بعد ای الیون، کامسیٹس کے قریب پارک روڈ اور غوری ٹاؤن سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی نگرانی میں کارروائیاں کرکے صورتحال کو قابو کیا۔

تحقیقات کے مطابق ان علاقوں میں قدرتی نالوں کا راستہ تبدیل یا محدود کیے جانے سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جس کے باعث بارش کے بعد پانی آبادیوں اور سڑکوں کی طرف بڑھ گیا۔

ای الیون میں ایک نالہ جو 2012 میں ڈی 12 کی جانب سے داخل ہوتا تھا، مبینہ طور پر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے تقریباً 40 فٹ سے کم کرکے 18 فٹ کردیا گیا۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ سی ڈی اے نے مبینہ طور پر نالے کو ڈھانپنے کی اجازت بھی دی۔

ای الیون پہنچنے سے قبل اسی نالے کی گزرگاہ تقریباً 100 فٹ تک تھی، مگر سیکٹر میں یہ تقریباً 18 فٹ رہ گئی اور ایک تیز موڑ نے پانی کے بہاؤ کو مزید محدود کردیا۔ دوسرے نالے کے ساتھ ملنے والے مقام پر بننے والے بوٹلنیک نے بھی سیلابی صورتحال کو شدت دی۔

پارک روڈ کے قریب گمراہ کس نالہ بھی طغیانی کے باعث گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہوگیا۔ 2005 اور 2026 کی سیٹلائٹ تصاویر کے تقابل سے نالے کے قدرتی راستے میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔

غوری ٹاؤن، جو غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی ہے، میں بھی دو قدرتی نالے تعمیرات کے باعث محدود ہوئے اور بارش کے دوران پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔

اسلام آباد کے 1960 کے ماسٹر پلان میں لوہی بھیر جھیل یا ڈیم کی تعمیر بھی تجویز کی گئی تھی تاکہ شہر کے نشیبی حصے میں بارش کا پانی ذخیرہ کیا جاسکے، مگر سی ڈی اے نے اس مقصد کے لیے زمین حاصل نہیں کی۔ اب مجوزہ مقام دو نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں شامل ہے۔

دوسری جانب ڈی 12 میں بارش سے مارکیٹ اور متعدد تجارتی عمارتوں کے تہہ خانے زیر آب آگئے۔ سٹی سینٹر، فیملی مارٹ پلازہ، آئم سینٹر اور سوئس سینٹر پلازہ کے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے بتایا کہ مارگلہ کے دامن میں چار نئے چیک ڈیم بنائے جائیں گے جبکہ ای الیون میں پانی کے بہاؤ کے لیے نیا نالہ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نالوں کی گزرگاہوں پر ہونے والی تعمیرات ہٹائی جائیں گی۔

ان کے مطابق پانی کی قلت کا شکار اسلام آباد میں بارش کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے ذخیرہ کرنا ضروری ہے، جبکہ نئے منصوبوں سے سیلاب کے خطرات کم کرنے کے ساتھ پانی کی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔