اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے معاملات خود طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ چین علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی بحری راستوں کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔
شی جن پنگ نے یہ بات بدھ کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہی۔ چینی صدر تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ قاہرہ پہنچے، جہاں السیسی نے ان کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے عوام اپنے معاملات کے خود مالک ہیں، اس لیے بیرونی مداخلت کی مخالفت اور علاقائی ممالک کے درمیان امن و سلامتی کے لیے مذاکرات کی حمایت ضروری ہے۔
ملاقات میں چھ ماہ سے جاری امریکا ایران جنگ سمیت خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ السیسی کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے پر زور دیا۔
مصر اور چین نے نہر سویز کے علاقے میں قائم مصری چینی صنعتی زون کے تیسرے مرحلے کے آغاز کے لیے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔ حکام کے مطابق صنعتی زون میں پہلے ہی تقریباً 200 کمپنیاں کام کررہی ہیں اور یہاں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 4 ارب ڈالر ہے۔ نئے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی، ترقیاتی تعاون اور تنازعات کی بنیادی وجوہات ختم کرنے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے، تاہم ان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مصر بھی چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو اپنی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ السیسی نے منگل کو ایک مضمون میں قاہرہ کی ’’آزاد خارجہ پالیسی‘‘ کو اجاگر کیا تھا۔
چینی کسٹمز کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں مصر کے ساتھ چین کا تجارتی سرپلس 12 ارب ڈالر رہا۔ ادھر 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد آبادی والے قاہرہ کو چینی اور مصری پرچموں اور دونوں رہنماؤں کی تصاویر سے سجایا گیا، جبکہ شی جن پنگ کے اہرامِ جیزہ کے قریب واقع گرینڈ اَیجپشن میوزیم کے دورے کی بھی توقع تھی۔
