اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی حملوں کا سلسلہ مسلسل ساتویں روز بھی جاری رہا، جہاں بدھ کو روسی ڈرونز نے مرکزی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں 11 افراد زخمی ہوئے جبکہ رہائشی عمارتوں اور ایک یونیورسٹی کو بھی نقصان پہنچا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق دن کے وقت ہونے والے حملے میں ایک مرکزی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت طلبہ کلاسز میں موجود تھے۔ حملے کے بعد تقریباً 160 افراد کو پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔
زیلنسکی نے روسی حملوں میں اضافے پر عالمی ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کیف اور اس کے گردونواح میں جاری روسی حملوں میں اب تک درجنوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ دارالحکومت کو خاص طور پر جیٹ انجن سے چلنے والے ڈرونز کی لہروں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بدھ کو فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے دوران شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
مسلسل حملوں نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف روس کی ممکنہ نئی مہم کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی ساختہ میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
روس نے جنوبی علاقے اوڈیسا میں بجلی کی تنصیبات کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ مقامی حکام کے مطابق حملوں کے نتیجے میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہوگئے۔
جنوب مشرقی شہر دنیپرو میں روسی حملوں کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔ علاقائی گورنر کے مطابق خوراک کے گوداموں اور تعلیمی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
کیف میں مسلسل فضائی حملوں نے شہری زندگی شدید متاثر کی ہے۔ فضائی خطرے کے الرٹ کے دوران سوویت دور کے میٹرو نظام کے بعض حصے بند کردیئے جاتے ہیں، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ کو بھی دو مرتبہ زیر زمین منتقل ہونا پڑا۔
زیلنسکی نے اعلان کیا کہ یوکرین اپنے الرٹ سسٹم کو تبدیل کرکے میزائلوں اور ڈرونز کے لیے دو الگ درجے متعارف کرائے گا۔
