اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق یورپی کمیشن کی جانب سے پاکستان کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے تحت 2023 سے 2025 تک کی کارکردگی کے جائزے میں ملک کی متعدد قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا گیا ہے، تاہم لیبر قوانین، انسانی حقوق، آزادی اظہار، اقلیتی حقوق، جبری گمشدگیوں اور عدالتی آزادی سمیت کئی شعبوں میں مزید پیش رفت پر زور دیا گیا ہے۔
جولائی میں جاری ہونے والی رپورٹ کو پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کی نہ مکمل توثیق قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ناکامی کی دستاویز سمجھا جا سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان نے کئی شعبوں میں عملی اقدامات کیے، تاہم قوانین اور پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اب بھی اہم چیلنج ہے۔
پاکستان 2014 سے جی ایس پی پلس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس کا سب سے بڑا مستفید ملک ہے۔ 2024 میں یورپی یونین نے پاکستان سے 8.3 ارب یورو کی درآمدات کیں، جن میں تقریباً 7.5 ارب یورو کی مصنوعات جی ایس پی پلس ترجیحات کے لیے اہل تھیں۔
اسی سال پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف رعایت حاصل ہوئی، جبکہ یورپی یونین پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حاصل کرنے والی سب سے بڑی منڈی رہی۔ جی ایس پی پلس سے استفادے کی شرح بھی 95.1 فیصد رہی، جس میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا نمایاں حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اسکیم سے متعلق تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق برقرار رکھی اور ان میں کوئی نیا ت ریزرویشن شامل نہیں کیا۔ متعلقہ عالمی اداروں کو رپورٹنگ اور یورپی یونین کے مانیٹرنگ عمل میں شرکت کے حوالے سے بھی پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔
انسانی حقوق کے شعبے میں سزائے موت کے دائرہ کار سے چار جرائم نکالنا، دسمبر 2019 کے بعد کسی پھانسی پر عمل نہ ہونا، نیشنل پریزن ریفارم ایکشن پلان اور ٹاسک فورس کا قیام اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلام آباد میں گھریلو تشدد کی روک تھام کی قانون سازی، سندھ میں 2024 میں ازدواجی زیادتی کے مقدمے میں پہلی سزا اور ٹیکنالوجی سے منسلک صنفی تشدد سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی بھی رپورٹ میں نمایاں کی گئی۔
لیبر کے شعبے میں پاکستان نے مارچ 2025 میں جبری مشقت کے عالمی معاہدے کے 2014 پروٹوکول کی توثیق کی، جبکہ صوبوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے۔
تاہم یورپی کمیشن نے واضح کیا کہ جبری اور بچوں سے مشقت، اقلیتوں کے تحفظ، آزادی اظہار، عدالتی آزادی، انسانی حقوق کی جواب دہی اور ادارہ جاتی نگرانی جیسے معاملات پر مزید توجہ درکار ہے۔
